"سات کلیسیائیں"
پہلی کلیسیاء
: پہلی اِفِسُس ہے، اِفِسُس کس طرح کی کلِیسیاء ہے؟ یہ ایسی کلیسیاء ہے جو تعلیمی لحاظ سے قدامت پرست ہے لیکن سرد ہے۔ اِس نے اپنی پہلی سی محبت چھوڑ دی ہے۔ 4آ میں لِکھا ہے، "مگر مُجھ کو تُجھ سے یہ شِکایت ہے کہ تُو نے اپنی پہلی سی مُحبّت چھوڑ دی۔" اور پِھر 5آ میں لِکھا ہے "پس خیال کر کہ تُو کہاں سے گِرا ہے اور تَوبہ کر کے پہلے کی طرح کام کر۔" اب یہ ایسی کلِیسیاء ہے جو قدامت پرست ہے، میرا مطلب ہے کہ اُن کے ہاں دُرست تعلیم موجُود ہے۔ دُوسری آیت میں ہے کہ وہ بدکار لوگوں کو برداشت نہیں کر سکتے تھے، وہ جُھوٹے رسُولوں اور اُستادوں کو برداشت نہیں کر سکتے تھے اور وہ دُرست تعلیم کے ساتھ وفادار ہوتے ہُوئے صبر کرتے رہے لیکن اُنہوں نے اپنی مُحبّت کھو دی۔ وہ ٹھنڈے اور قدامت پرست تھے اور اِس قِسم کی کلیسیاء ہر دور میں موجُود رہی ہے اور آج بھی ہے۔ وہ لوگ جِن کے پاس دُرست پیغام ہے۔ وہ بس اِس کے بارے میں ٹھنڈے اور لاپروا ہو گئے ہیں۔ دُوسری کلیسیاء: دُوسری کلیسیاء جِسے ہم دیکھتے ہیں، 8-11آ میں سمُرؔنہ کی کلیسیاء ہے، یہ وہ کلِیسیاء ہے جو ایذارسانی جھیلتی ہے اور 10آ میں لِکھا ہے "جو دُکھ تُجھے سہنے ہوں گے اُن سے خَوف نہ کر۔ دیکھو اِبلِیس تُم میں سے بعض کو قَید میں ڈالنے کو ہے تاکہ تُمہاری آزمایش ہو اور دس دِن تک مُصِیبت اُٹھاؤ گے۔" دس دِن وقت کے ایک مُختِصر عرصے کو پیش کرتے ہیں، پِھر لِکھا ہے "جان دینے تک بھی وفادار رہ تو مَیں تُجھے زِندگی کا تاج دُوں گا۔" اِس کلِیسیاء کے بارے میں کُچھ بھی منفی بات نہیں بولی گئی۔ کیوں؟ اِس لئے کہ جو کلِیسیاء ایذارسانی تلے ہوگی وہ ہمیشہ ایک خالص کلِیسیاء ہوگی، وہ مصِیبتوں اور مُشکِلوں سے پاک صاف کی جاتی ہے۔ وہ لوگ جو کِسی بھی وجہ سے آگے آگے دِکھائی دیتے ہیں، جیسے ہی مصیبت شُروع ہوتی ہے، بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ کیونکہ اگر اُن کے پاس کچھ ایسا نہیں جِس کی خاطر جان دی جائے تو پِھر وہ وہاں نہیں رہیں گے کہ قتل و غارت میں مارے جائیں۔ سو یہ ایک کلِیسیاء ہے جو مصیبت سے دو چار ہے اور کلیسیائی تاریخ کے تمام اَدوار میں ایسی کلِیسیائیں رہی ہیں اور آج بھی ایسی کلیسیائیں موجُود ہیں۔ تِیسری کلِیسیاء: تِیسرا خط پِرگُمن کے شہر میں موجُود کلِیسیاء کو لِکھا گیا ہے اور یہ 2ب 12-17آ میں ہے۔ اور یہ ایسی کلِیسیاء ہے جو دُنیا کے ساتھ جُڑی ہُوئی ہے۔ یہ ایک دُنیاوی کلِیسیاء ہے اور وہ 15آ تک اُن کی دُنیاداری کو بیان کرتا ہے اور پِھر 16آ میں لِکھا ہے "پس تَوبہ کر۔ نہیں تو مَیں تیرے پاس جلد آ کر اپنے مُنہ کی تلوار سے اُن کے ساتھ لڑُوں گا۔" یہ وہ کلِیسیاء ہے جس کے خلاف مسِیح لڑتا ہے، ایسی کلِیسیاء جو دُنیا کے ساتھ بیاہ کر چُکی ہے اور کلِیسیائی تاریخ کے تمام اَدوار میں ایسی دُنیا دار کلِیسیائیں رہی ہیں، جہاں لوگ دُنیا میں سے باہر نہیں نکلتے، جہاں وہ دُنیا کے ساتھ نباہ کرتے ہیں، جہاں وہ جہان کے ساتھ مفاہمت کر لیتے ہیں، جہاں وہ ہر اُس بات کے ساتھ چلتے ہیں جو کہ معاشرے میں واقع ہو رہی ہوتی ہے۔ چوتھی کلِیسیاء: پِھر خُداوند کے پاس ایک چوتھی طرح کی کلِیسیاء کے لئے ایک پیغام ہے جِس کی نمائندگی تھواتِیرؔہ کی جماعت کے ذریعے 2ب 18-29آ میں کی گئی ہے۔ تھواتِیرؔہ ایسی کلِیسیاء ہے جو گُناہ کو برداشت کرتی ہے۔ اِس کلِیسیاء میں اُن لوگوں نے ایک ایزیبل جیسی عورت کو اجازت دی ہُوئی ہے جو خادمین کو حرامکاری کرنے اور بُتوں کے لئے کی گئی قُربانیاں کھانے کے لئے ورغلایا کرتی تھی۔ سو اُنہیں خبردار کِیا گیا ہے کیونکہ وہ ایک ایسی کلِیسیاء ہے جو کہ گُناہ کی اجازت دیتی ہے، ایک ایسی کلِیسیاء، جو کہ گُناہ کی سرزنِش نہیں کرتی۔ ایک ایسی کلِیسیاء، جو اپنی صفوں کو پاک نہیں کرتی اور اِس طرح کی کلِیسیائیں ہمیشہ سے رہی ہیں۔ پانچویں کلِیسیاء: اور پِھر 3ب میں ہمیں پانچویں کلِیسیاء سردِیس سے مُتعارِف کرایا گیا ہے۔ یہ دیکھنا بہت آسان ہے کہ اِس کلِیسیاء میں کیا خرابی تھی۔ 1آ میں لِکھا ہے "تُو زِندہ کہلاتا ہے اور ہے مُردہ۔" یہ ایک مُردہ کلیسیا ہے، بس مُردہ ہے اور اِس میں 2آ بتاتی ہے کہ بعض باتیں تھیں جو کہ زندہ تھیں لیکن وہ بھی ختم ہونے کے قریب تھیں، یہ ایک مُردہ کلِیسیاء ہے اور آپ نے ایسی کلیسیاء دیکھی ہوگی۔ شاید آپ کسی ایسی ہی کلِیسیاء سے تعلق رکھتے ہوں، جہاں کُچھ وقوع پذیر نہیں ہوتا، کوئی زِندگی نہیں، کوئی ترقّی نہیں، کوئی پھل نہیں، کوئی خوشی نہیں۔ چھٹی کلِیسیاء: اور پِھر چھٹی کلِیسیاء 3ب 7-13آ میں فِلدِلفیہ کی کلِیسیاء ہے، یہ ایک وفادار کلِیسیاء ہے۔ 8آ کے آخر میں لِکھا ہے، "۔۔۔تُو نے میرے کلام پر عمل کِیا ہے اور میرے نام کا اِنکار نہیں کِیا۔" یہ ایک کلِیسیاء ہے جس کے پاس ایک کُھلا دروازہ ہے اور اُس میں سے گُزری ہے۔ آپ اِسے ایک مِشنری کلِیسیاء کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ سو یہ ایک وفادار کلِیسیاء ہے اور اِس طرح کی ہمیشہ سے کلیسیائیں موجُود رہی ہیں۔ ساتویں کلِیسیاء: اور پِھر آخری، ساتویں کلِیسیاء، 3ب 14آ سے باب کے آخِر تک آتی ہے، یہ سارا حِصّہ لَودیکیہ، ایک برگشتہ کلِیسیاء، ایک غیر نجات یافتہ کلِیسیاء، آج کی طرح کی آزاد خیال کلِیسیاء کے ساتھ نبُردآزما ہوتا ہے۔ سو آپ دیکھتے ہیں کہ اُن میں سے ہر ایک کے لئے ایک پیغام موجُود ہے۔ ویسے اِس کلِیسیاء کی خصوصیت 15آ میں ہے، لِکھا ہے "مَیں تیرے کاموں کو جانتا ہُوں کہ نہ تُو سرد ہے نہ گرم۔ کاش کہ تُو سرد یا گرم ہوتا۔" وہ کہتا ہے "کاش کہ تُو میرے خلاف ہوتا یا میری طرف ہوتا۔" لِکھا ہے "چُونکہ تُو نہ تو گرم ہے نہ سرد بلکہ نِیم گرم ہے اِس لِئے مَیں تُجھے اپنے مُنہ سے نِکال پَھینکنے کو ہُوں۔" یہ ایک ردّ کی گئی کلِیسیاء ہے۔ خُلاصہ: اب میں خُلاصہ پیش کرتا ہوں۔ سب سے پہلے 2ب میں ہمارے پاس ایک ٹھنڈی قدامت پسند کلِیسیاء ہے۔ پِھر ہمارے سامنے ایک کلِیسیاء ہے جو مصیبت جھیل رہی ہے۔ پِھر ایک کلِیسیاء جو دُنیا کے ساتھ مِلی ہُوئی ہے۔ ایک کلِیسیاء جو گُناہ کو اجازت دے رہی ہے۔ ایک مُردہ کلِیسیاء۔ ایک وفادار کلِیسیاء۔ اور ایک برگشتہ کلِیسیاء۔ اب اِن میں سے ہر ایک جیسا کہ میں نے کہا تھا، ایک حقِیقی کلِیسیاء تھی اور ہر ایک تاریخ کے تمام اَدوار میں موجُود کلِیسیاؤں کو پیش کرتی ہے۔ لہٰذا اِن کلِیسیاؤں کو دِیا گیا پیغام، سارے دور کی تمام کلیسیاؤں کے لئے ہے جس میں کلِیسیاء روئے زمین پر موجُود ہے اور جس میں مسِیح سات چراغدانوں کے بیچ میں چلتا پِھرتا ہے اور اپنی کلِیسیاء کی خدمت کرتا ہے۔

